Posts

Showing posts from December, 2025

ٹائیم مشین انسانی ترقی کی چابی

Image
انسان ازل سے وقت کے قید خانے میں مقید رہا ہے۔ وقت نہ صرف انسان کی زندگی کو محدود کرتا ہے بلکہ اس کے خوابوں، غلطیوں اور امیدوں کو بھی ایک خاص دائرے میں قید رکھتا ہے۔ اسی لیے ہر دور میں انسان نے ایک ہی خواب دیکھا: کیا وقت کو توڑا جا سکتا ہے؟ کیا ماضی میں جا کر غلطیاں درست کی جا سکتی ہیں؟ کیا مستقبل دیکھ کر آج کے فیصلے بدلے جا سکتے ہیں؟یہی خواب ٹائیم مشین کا تصور بن گیا، جو آج بھی انسان کی ترقی کی سب سے بڑی کنجی سمجھی جاتی ہے انسانی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انسان نے ہمیشہ وقت کو سمجھنے، ناپنے اور قابو میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، مگر یہی وہ طاقت ہے جس پر انسان کا سب سے کم اختیار ہے۔ ماضی کی یادیں، حال کی بے چینی اور مستقبل کی فکر.یہ سب وقت کے بہاؤ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے انسان کے ذہن میں صدیوں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا رہا ہے: کیا وقت میں سفر ممکن ہے؟ ٹائیم مشین کا تصور محض سائنسی فکشن یا کہانیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی ترقی، سائنسی تجسس اور فکری ارتقا کی علامت ہے۔ قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید د...

نئے سال کی خوشیوں کے نام پر سائبر فراڈ کا طوفان

Image
  مبارک باد کے جعلی پیغامات، قیمتی انعامات کا لالچ اور خفیہ ڈیٹا کی چوری فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر بڑھتا سائبر دھوکہ ایک کلک، ساری زندگی کی کمائی خطرے میں: سائبر فراڈ کے نئے طریقے بے نقاب نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی وارننگ نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی جہاں دنیا بھر میں خوشی، امید اور نئی شروعات کا پیغام دیا جاتا ہے، وہیں سائبر مجرم اس موقع کو شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے سال کی مبارک باد کے نام پر جعلی لنکس، فرضی انعامات اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ایجنسی کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور خاص طور پر واٹس ایپ اس وقت سائبر فراڈ کرنے والوں کا سب سے بڑا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کو ایسے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں معروف موبائل کمپنیوں، بینکوں، آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان پیغامات میں صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ قرعہ اندازی میں کامیاب ہو چکے ہیں اور انہیں م...

موبائل فون اور بچوں کی نشوونما

Image
  موبائل فون : جدید دور کی بہترین ایجاد یا خاموش دشمن؟ موبائل فون بلاشبہ موجودہ دور کی ایک عظیم ایجاد ہے جس نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ رابطہ، تعلیم، کاروبار، تفریح اور معلومات تک رسائی چند لمحوں میں ممکن ہو چکی ہے۔ لیکن جہاں اس ایجاد نے بڑوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں، وہیں یہ چھوٹے بچوں کے لیے ایک نیا اور خطرناک چیلنج بھی بن گئی ہے۔ خاص طور پر آج کی مائیں، جو بچوں کو خاموش رکھنے یا وقتی محبت کے اظہار کے لیے موبائل فون تھما دیتی ہیں، وہ جانے انجانے میں اپنے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہیں۔ اکثر مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر بچہ رو رہا ہے، ضد کر رہا ہے یا تنگ کر رہا ہے تو موبائل فون دے دینا اس کی محبت کی علامت ہے۔ کارٹون، ویڈیوز اور گیمز بچے کو فوراً خاموش کر دیتے ہیں، لیکن یہ خاموشی وقتی ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ محبت نہیں بلکہ سہولت پسندی ہے، کیونکہ ماں وقتی سکون کے بدلے بچے کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہے۔ بچوں کی ابتدائی عمر اور دماغی نشوونما بچے کی ابتدائی پانچ سال کی عمر اس کی دماغی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ اس دوران بچہ دیکھ کر، ...

انٹرنیٹ اور اس کے فائدے اور نقصان

Image
انٹرنیٹ آج کی دنیا میں زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے  یہ ایک عالمی نیٹ ورک ہے جو کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کو آپس میں جوڑتا ہے اور معلومات کے تبادلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ چند دہائیوں پہلے لوگ خبروں، تعلیم، کاروبار اور رابطوں کے لیے روایتی ذرائع استعمال کرتے تھے، مگر اب یہ تمام کام چند سیکنڈ میں ممکن ہیں۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں بدل دیا ہے جہاں فاصلے، زبانیں اور وقت کی رکاوٹیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ انٹرنیٹ کے استعمال نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے، اور یہ سہولتیں اور مسائل دونوں ساتھ لاتا ہے۔انٹرنیٹ کے استعمال کے سب سے بڑے فوائد میں آسان رابطے شامل ہیں۔ لوگ فیس بک، واٹس ایپ، ای میل، اور ویڈیو کال کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود دوست، رشتہ دار یا کاروباری شراکت دار سے لمحوں میں بات کر سکتے ہیں۔ اس سے دوری کے باوجود تعلقات قائم رہتے ہیں اور کاروبار بھی بغیر کسی رکاوٹ کے بڑھتا ہے۔ انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی کو بھی بے حد آسان کر دیا ہے۔ گوگل، یوٹیوب ، آن لائن لائبریریز اور بلاگز کے ذریعے ہر موضوع پر معلومات چند لمحوں میں حاصل کی ...

پاکستان کی معیشت زوال سے استحکام تک

Image
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، مگر اس کے باوجود اس کی معیشت کو مختلف ادوار میں شدید مشکلات اور بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، ناقص پالیسیاں بدعنوانی، دہشت گردی اور عالمی معاشی دباؤ نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو کمزور کیا۔ تاہم تاریخ کے کچھ ادوار ایسے بھی رہے جب ملک کو معاشی سہارا ملا اور ترقی کی راہیں ہموار ہوئیں۔ ان ادوار میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے معیشت کی بحالی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور عوامی فلاح کے لیے اہم اقدامات کیے۔ پاکستان کی معیشت زوال کی وجوہات پاکستان کی معیشت کے زوال کی کئی بنیادی وجوہات رہی ہیں سیاسی عدم استحکام بار بار حکومتوں کی تبدیلی مارشل لا اور جمہوری تسلسل کی کمی نے طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچایا۔توانائی کا بحران بجلی اور گیس کی شدید قلت نے صنعت زراعت اور برآمدات کو بری طرح متاثر کیا جس سے معاشی پہیہ سست پڑ گیا۔دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال 2000 کی دہائی میں دہشت گردی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دیا اور کار...

بیٹی کی موت کا ذمہ دارکون ماں یا باپ

Image
  بہاولپور کی خاموش گلی میں گونجتا سائرن اور ایک باپ کی ٹوٹتی دنیا ماں کے ہاتھوں بیٹی کا گلا۔ سگریٹ، غصہ اور خوف کی کہانی   بہاولپور کی ایک تنگ اور خاموش گلی، جہاں دوپہر کے وقت عموماً دھوپ دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے، اُس دن ایک عجیب شور سے لرز اٹھی۔ دور سے 1122 کی ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا، جو آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا تھا۔ سائرن کی آواز کے ساتھ ایک باپ کی چیخیں، ایک ماں کی خاموشی، اور بچوں کی سسکیاں فضا میں گھلتی جا رہی تھیں۔غلام رسول اپنی بیٹی بسمہ کو ہاتھوں میں اٹھائے گلی کے کونے سے نمودار ہوا۔ اس کی آنکھوں میں خوف، ہاتھوں میں لرزش اور دل میں ایک انجان سا ڈر تھا۔ بسمہ کا جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا، جیسے جان کب کی پرواز کر چکی ہو مگر باپ کا دل ماننے کو تیار نہ تھا۔ میری بیٹی کو بچا لو۔ خدا کے لیے میری بیٹی کو بچا لو۔وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ 1122 کے اہلکار آگے بڑھے، پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ بچی کو اس کے باپ کی گود سے لیا، اسٹریچر پر لٹایا اور غلام رسول کو بھی ایمبولینس میں بٹھا دیا۔ سائرن دوبارہ چیخ اٹھا اور ایمبولینس سڑکوں کو چیرتی ہوئی ہسپتال کی ایمرجنسی کی...

سندھ طاس معاہدہ مودی پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش

Image
  مودی حکومت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کا نیا مرحلہ جنوبی ایشیا ایک بار پھر کشیدگی کے دہانے پر  مودی حکومت اور پاکستان: دشمنی کی سیاست کی جڑیں بھارت اور پاکستان کے تعلقات قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے ہی تنازعات کا شکار رہے ہیں، مگر نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ان تعلقات میں ایک نئی شدت اور جارحانہ انداز دیکھنے میں آیا۔ مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہندوتوا نظریے کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے، جس میں پاکستان کو اکثر داخلی سیاست کے لیے ایک مستقل "دشمن" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مودی حکومت کے پہلے دور (2014–2019) میں ابتدا میں تعلقات بہتر بنانے کے دعوے کیے گئے، مگر جلد ہی سرجیکل اسٹرائیکس، لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں، اور سخت سفارتی بیانات نے ماحول کو زہر آلود کر دیا۔ پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ اسٹرائیک نے دونوں ممالک کو کھلی جنگ کے قریب پہنچا دیا۔بی جے پی حکومت کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ صرف خارجہ پالیسی نہیں بلکہ اندرونی سیاست کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔ انتخابات سے قبل یا کسی اندرونی بحران کے وقت پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا مودی حکومت کی ایک ...

مودی کی سوچ اور بھارتی فلم انڈسٹری: ایک ہی ذہنیت کے دو چہرے

Image
نریندر مودی کی سیاست اور بھارتی فلم انڈسٹری، بالخصوص بالی ووڈ، بظاہر دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھتی ہیں، مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو دونوں کی سوچ حیران کن حد تک ایک جیسی نظر آتی ہے۔ مودی کی حکومت ہو یا بھارتی فلموں کی اسکرین، پاکستان کو اکثر ایک دشمن، ایک خطرہ اور ایک منفی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارتی فلموں میں پاکستانی کردار کو عموماً دہشت گرد، غدار، یا فریب کار کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ رجحان 1990 کی دہائی میں شروع ہوا، مگر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مودی حکومت اور فلم انڈسٹری کے درمیان ایک غیر اعلانیہ ہم آہنگی نظر آتی ہے جہاں سینما کو عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فلمیں وہی کہانی دکھاتی ہیں جو حکومت عوام کو سنانا چاہتی ہےکہ پاکستان دشمن ہے، بھارت مظلوم ہے، اور مودی محافظ ہے۔ یہ بیانیہ آہستہ آہستہ بھارتی عوام کے لاشعور میں بٹھایا جا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔   بھارتی فلمی اسکرین پر پاکستان: منفی تصویر کشی کی تاریخ اگر بھارتی فلمی تاریخ پر...

سُپر فلوکیا ہے۔ بچاو کی ویکسین لگوانے سے انسان محفوظ ہو سکتا ہے

Image
یوں تو سردی آتے ہی فلوآپکے اردگردگھومنا شروع کر دیتا ہے۔اگر احتیاط نہ کی جائے تویہ آپ کو لگ بھی سکتا ہے۔ سُپر فلوایک فلو کی ایک قسم ہے۔ برطانیہ میں رواں موسمِ سرما کے دوران نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ فلو کے کیسز میں معمول سے کہیں پہلے اور تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے بعض طبی ماہرین اور ذرائع ابلاغ نے ’سُپر فلو‘ کا نام دیا ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ کوئی باقاعدہ سائنسی نام نہیں، مگر اس سے مراد فلو کی وہ غیر معمولی لہر ہے جو اپنی شدت، پھیلاؤ اور اثرات کے باعث عام موسمی فلو سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔یہ کوئی نیا وائرس نہیں، بلکہ زیادہ تر وہی انفلوئنزا وائرس ہوتا ہے جو ہر سال گردش کرتا ہے، تاہم بعض عوامل اس کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں سُپر فلو جیسی صورتحال پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہیں کووِڈ-19 وبا کے دوران لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کے باعث عام فلو اور دیگر وائرسز کا پھیلاؤ کم ہو گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کی قدرتی قوتِ مدافعت کو فلو سے لڑنے کا موقع کم ملا۔ اب جب معمولات زندگی بحال ہو چکے ہ...

مصنوعی سورج کی طرف عالمی دوڑ

Image
سال 2025 انسانیت کی صاف، لامحدود توانائی کے حصول کے سب سے زیادہ مہتواکانکشی بابوں میں سے ایک ہے: ایک مصنوعی سورج بنانے کی عالمی دوڑ۔ اس اصطلاح سے مراد بڑے پیمانے پر فیوژن ری ایکٹر ہیں جو اسی جوہری فیوژن کے عمل کو نقل کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جو حقیقی ستاروں کو طاقت دیتے ہیں۔ روایتی نیوکلیئر فِشن ری ایکٹرز کے برعکس، جو ایٹموں کو تقسیم کرتے ہیں، فیوژن ہلکے ایٹم نیوکلی کو ضم کر دیتا ہے — جو عام طور پر ہائیڈروجن کے آاسوٹوپس — کو کم سے کم طویل مدتی تابکار فضلہ پیدا کرتے ہوئے بہت زیادہ مقدار میں توانائی چھوڑتا ہے۔اقوام کئی دہائیوں سے فیوژن ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربہ کر رہی ہیں، لیکن 2025 ایک اہم موڑ کے طور پر کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں کئی اہم سائنسی سہولیات اپنے ری ایکٹروں کو بے مثال پاور لیول کی طرف دھکیل رہی ہیں، قید کے اوقات میں توسیع کر رہی ہیں، اور "انرجی کے خالص فائدہ" کے حصول کے قریب پہنچ رہی ہیں- وہ لمحہ جب ایک ری ایکٹر اپنی استعمال سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کا سنگ میل نسلوں کے لیے عالمی توانائی، معاشیات اور جغرافیائی سیاست کی نئی تعریف کرے گا۔ چین کی ریاست  ہائے متح...

پاکستانی طلبہ اور سائنس کی ترقی

Image
دنیا بھر کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابیوں کے پیچھے مضبوط سائنسی بنیادیں چھپی ہوتی ہیں۔ یہ بنیادیں تحقیق، تجربات، نئی ایجادات اور نئی سوچ کو جنم دیتی ہیں۔ پاکستان میں بھی سائنس کی ترقی کا سفر نوجوان نسل، خصوصاً طلبہ، کے بغیر نامکمل ہے۔ پاکستانی طلبہ نہ صرف ملکی سائنس و ٹیکنالوجی کے ڈھانچے میں جان ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی ذہانت، مہارت اور تخلیقی سوچ کی وجہ سے پہچانے جا رہے ہیں۔ سائنس سے وابستگی . ایک روشن روایت پاکستان کے نوجوان شروع سے ہی سائنسی تعلیم میں شوق رکھتے ہیں۔ اسکول کی سطح سے ہی سائنس میلہ، ماڈل بنانے کے مقابلے، روبوٹکس، کیمسٹری شوز، اور فزکس پروجیکٹس پاکستانی طلبہ کی دلچسپی کو ثابت کرتے ہیں۔ بہت سے طلبہ اپنے کم وسائل کے باوجود حیران کن سائنسی ماڈل تیار کرتے ہیں، جو ان کی ذہانت اور لگن کی بہترین مثال ہیں۔ عالمی مقابلوں میں کامیابیاں پاکستانی طلبہ نے عالمی سائنسی مقابلوں میں کئی بار ملک کا نام روشن کیا ہے۔ بین الاقوامی فزکس اولمپیاڈ، بایولوجی اولمپیاڈ، کیمسٹری اولمپیاڈ، اور روبوٹکس مقابلوں میں پاکستان کے نوجوان طلائی، نقرئی اور کانسی کے تمغے جیت کر ثابت کر چکے ہی...

آن لائن اسکلز: پاکستان میں معاشی ترقی کا نیا دور

Image
  ڈیجیٹل معیشت کا بڑھتا ہوا رجحان اور نوجوانوں کے لیے نئے امکانات پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس تبدیلی میں سب سے اہم کردار آن لائن اسکلز کا ہے۔ آج کے دور میں نوجوان محض ڈگری ہونے پر انحصار نہیں کرتے، بلکہ وہ عملی مہارتیں سیکھ کر عالمی مارکیٹ میں جگہ بنا رہے ہیں۔ فری لانسنگ، ای کامرس، سوشل میڈیا مینجمنٹ، ورچوئل اسسٹنس، ویب ڈیولپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، اور یوٹیوب کنٹینٹ کریشن جیسے ہنر ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جن سے گھر بیٹھے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوچ اگر عملی شکل اختیار کرے کہ ہر نوجوان ایک ڈیجیٹل اسکل سیکھ لے، تو ہماری معیشت کو مضبوط کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔ آن لائن اسکلز سیکھنے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کم خرچ، آسان، اور ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہیں۔ دنیا بھر میں ریموٹ ورک اور فری لانسنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور پاکستانی نوجوان اپنی محنت اور صلاحیت کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیزی سے نام بنا رہے ہیں۔           حکومتی اقدامات اور آن لائن ورک کو فروغ...

یونان کی نئی امیگریشن پالیسی اب پاکستانیوں کا پہلا پڑاؤ نہیں رہا

Image
  گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی نوجوان یورپ میں بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے سب سے پہلے یونان پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔ تاریخی طور پر یونان یورپ کا ایسا دروازہ سمجھا جاتا تھا جہاں پہنچ کر اکثر تارکینِ وطن کچھ ہی دنوں میں آگے سفر کر لیتے تھے۔ لیکن اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ یونان نے امیگریشن قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرواتے ہوئے غیر قانونی داخلے اور بغیر دستاویزات رہائش کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یونان کو پاکستانیوں کا پہلا پڑاؤ کہنا درست نہیں ہوگا۔ پہلے جو افراد غیر قانونی داخلہ کرتے تھے، وہ عام طور پر سرحد کے قریب قائم ڈیٹینشن کیمپ میں چند ہفتے گزارتے اور پھر رہائی کے بعد ملک چھوڑ کر آگے یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ بعض افراد 14 دن کے اندر ملک چھوڑ کر وطن واپس بھی آجاتے تھے۔ اس وقت یونان نسبتاً نرم پالیسی رکھتا تھا جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوان ہر سال یہی راستہ اختیار کرتے تھے۔ لیکن اب یونانی حکومت نے امیگریشن سسٹم کو ازسرِ نو تشکیل دیتے ہوئے نہ صرف قوانین سخت کر دیے ہیں بلکہ ایسے اقدامات اٹھائے...

دنیا بھر 21 ہزار 647 پاکستانی جیلوں میں قید یا زیر سماعت ہیں

Image
   ایوانِ زیریں کی جانب سے وزیرِ خارجہ کی طرف جمع کروائے گئے تحریریجواب کے تحت پاکستانی شہریوں کی غیر ملکی جیلوں میں موجودگی کی تازہ صورتحال روشن ہوئی ہے۔ اس جواب کے مطابق دنیا بھر میں مقیم پاکستانی شہریوں کی کل تعداد 21 ہزار 647 ہے جو مختلف ممالک کی جیلوں میں قید یا زیر سماعت ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف ملک کی بیرونی شہریت رکھنے والے افراد کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کارکردگی اور قونصلر امداد کی ترجیحات کی سمت بھی واضح کرتے ہیں۔   بھارت میں 738 پاکستانی شہری قید ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ بھارت میں قید پاکستانی شہریوں کی صورتحال پر مبذول ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی کے تحریری جواب کے مطابق بھارت میں 738 پاکستانی شہری قید ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں وہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ ان افراد کو کس قسم کے جرم کی بنا پر سزا دی گئی یا زیرِ سماعت مقدمات کی نوعیت کیا ہے۔ اس بنیادی خامی کی وجہ سے مقامی سطح پر الزام کی نوعیت یا عدالتی عمل کی شفافیت پر سوالات قائم رہتے ہیں۔ میڈیا اور خارجہ دفاتر کے درمیان معلومات کی فراہمی میں یہ فرق دراصل دو طرفہ شفافیت کی ضرورت کو اجاگر ...