سندھ طاس معاہدہ مودی پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش
مودی حکومت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کا نیا مرحلہ جنوبی ایشیا ایک بار پھر کشیدگی کے دہانے پر
مودی حکومت اور پاکستان: دشمنی کی سیاست کی جڑیں
بھارت اور پاکستان کے تعلقات قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سے ہی تنازعات کا شکار رہے ہیں، مگر نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ان تعلقات میں ایک نئی شدت اور جارحانہ انداز دیکھنے میں آیا۔ مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہندوتوا نظریے کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے، جس میں پاکستان کو اکثر داخلی سیاست کے لیے ایک مستقل "دشمن" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مودی حکومت کے پہلے دور (2014–2019) میں ابتدا میں تعلقات بہتر بنانے کے دعوے کیے گئے، مگر جلد ہی سرجیکل اسٹرائیکس، لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں، اور سخت سفارتی بیانات نے ماحول کو زہر آلود کر دیا۔ پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ اسٹرائیک نے دونوں ممالک کو کھلی جنگ کے قریب پہنچا دیا۔بی جے پی حکومت کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ صرف خارجہ پالیسی نہیں بلکہ اندرونی سیاست کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔ انتخابات سے قبل یا کسی اندرونی بحران کے وقت پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا مودی حکومت کی ایک آزمودہ حکمت عملی بن چکی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ: پانی کو ہتھیار بنانے کی کوشش
سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا اور اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تین دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو اور تین (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے۔مودی حکومت نے کئی مواقع پر سندھ طاس معاہدے کو "معطل" یا "نظرثانی" کرنے کی دھمکیاں دیں۔ یہ بیانات محض سفارتی دباؤ نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں: پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا۔ اگر بھارت واقعی سندھ طاس معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی زراعت، معیشت اور خوراک کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت پانی روکنا یا اس کا رخ موڑنا ایک سنگین خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت کا اصل مقصد معاہدہ ختم کرنا نہیں بلکہ پاکستان پر نفسیاتی اور سفارتی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ داخلی سیاست میں طاقتور لیڈر کا تاثر دیا جا سکے
اٹاری۔ واہگہ بندش اور پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات
اٹاری۔واہگہ بارڈر جنوبی ایشیا میں عوامی رابطوں، تجارت اور ثقافتی تبادلوں کی ایک علامت رہا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے اس سرحد کو بند کرنا دراصل عوامی سطح پر روابط ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اسی طرح مختلف اوقات میں پاکستانی شہریوں کو 48 یا 72 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کے احکامات دیے گئے، جن میں مریض، طلبہ، اور بزرگ بھی شامل تھے۔ یہ اقدامات انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی ہیں اور اس سے بھارت کی جمہوری شبیہ کو شدید نقصان پہنچا۔ان فیصلوں کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو ہوتا ہے، جن کا سیاست یا سیکیورٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ خاندان بچھڑ جاتے ہیں، مریض علاج سے محروم ہو جاتے ہیں، اور نفرت کا دائرہ مزید پھیل جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے اقدامات واقعی سیکیورٹی کو بہتر بناتے ہیں یا صرف نفرت کی سیاست کو ہوا دیتے ہیں؟
مودی کی نئی حکمتِ عملی: بدلے کی آگ یا سیاسی مجبوری؟کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مودی کی پاکستان مخالف حکمتِ عملی دراصل داخلی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر تنقید نے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ایسے میں پاکستان کے خلاف سخت بیانات، سرحدی کشیدگی، اور سفارتی اقدامات عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن جاتے ہیں۔تاہم یہ حکمتِ عملی ایک خطرناک کھیل ہے۔ جنوبی ایشیا دو ایٹمی طاقتوں کا خطہ ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتائج ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔ بدلے کی آگ میں جلنے والا صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورا خطہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے بارہا مذاکرات، ثالثی، اور امن کی بات کی گئی ہے، مگر بھارت کی موجودہ قیادت اس راستے پر چلنے کو تیار نظر نہیں آتی۔ مودی حکومت کے حالیہ اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر تصادم کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ، سرحدی بندش، اور پاکستانی شہریوں کے خلاف اقدامات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ پالیسیاں خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جائیں گی۔امن، مذاکرات، اور باہمی احترام ہی جنوبی ایشیا کے مسائل کا واحد حل ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نفرت اور دھمکیوں سے نہ تو مسائل حل ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔


Comments
Post a Comment