مودی کی سوچ اور بھارتی فلم انڈسٹری: ایک ہی ذہنیت کے دو چہرے
نریندر مودی کی سیاست اور بھارتی فلم انڈسٹری، بالخصوص بالی ووڈ، بظاہر دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھتی ہیں، مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو دونوں کی سوچ حیران کن حد تک ایک جیسی نظر آتی ہے۔ مودی کی حکومت ہو یا بھارتی فلموں کی اسکرین، پاکستان کو اکثر ایک دشمن، ایک خطرہ اور ایک منفی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارتی فلموں میں پاکستانی کردار کو عموماً دہشت گرد، غدار، یا فریب کار کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ رجحان 1990 کی دہائی میں شروع ہوا، مگر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔مودی حکومت اور فلم انڈسٹری کے درمیان ایک غیر اعلانیہ ہم آہنگی نظر آتی ہے جہاں سینما کو عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فلمیں وہی کہانی دکھاتی ہیں جو حکومت عوام کو سنانا چاہتی ہےکہ پاکستان دشمن ہے، بھارت مظلوم ہے، اور مودی محافظ ہے۔ یہ بیانیہ آہستہ آہستہ بھارتی عوام کے لاشعور میں بٹھایا جا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔
بھارتی فلمی اسکرین پر پاکستان: منفی تصویر کشی کی تاریخ
اگر بھارتی فلمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کو شاذ و نادر ہی مثبت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد سے ہی فلموں میں پاکستان کو ایک "دوسرا" ملک بنا کر دکھایا گیا، مگر وقت کے ساتھ یہ رجحان نفرت میں بدل گیا۔
مودی کے دور میں بننے والی فلمیں محض کہانیاں نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں۔ان فلموں میں پاکستانی فوج کو ظالم پاکستانی عوام کو گمراہ اور پاکستان کو مستقل خطرہ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ فلمیں نہ صرف پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں بلکہ بھارتی عوام کو یہ باور کراتی ہیں کہ ہر مسئلے کی جڑ پاکستان ہے۔ یہ خطرناک سوچ دراصل مودی حکومت کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اس سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی فلم انڈسٹری ماضی میں پاکستانی فنکاروں، گلوکاروں اور اداکاروں کو خوش آمدید کہتی رہی ہے، مگر مودی دور میں انہیں "قومی سلامتی" کے نام پر نکال دیا گیا۔
پاکستان کا موقف: امن، مکالمہ اور بہتر تعلقات کی خواہش
اس کے برعکس پاکستان کا سرکاری اور عوامی بیانیہ زیادہ تر امن، مذاکرات اور بہتر تعلقات پر مبنی رہا ہے۔ پاکستان نے متعدد بار بھارت کو جامع مذاکرات، تجارتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات بہتر بنانے کی پیشکش کی۔پاکستانی قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ خطے کی ترقی دشمنی میں نہیں بلکہ تعاون میں ہے۔ کشمیر، پانی، تجارت اور سیکیورٹی جیسے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ پاکستانی میڈیا اور فلم انڈسٹری میں بھارت کو مجموعی طور پر دشمن نہیں بلکہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں بھارتی عوام یا ثقافت کے خلاف نفرت کم ہی نظر آتی ہے۔یہ فرق واضح کرتا ہے کہ مسئلہ دونوں ممالک کے عوام نہیں بلکہ سیاسی سوچ اور حکمران طبقہ ہے، جو نفرت کو ایندھن بنا کر اقتدار کو مضبوط کرتا ہے۔
مودی کو پاکستان دشمنی سے سیاسی فائدہ کیسے ملتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ مودی کو پاکستان دشمنی سے کیا حاصل ہوتا ہے؟
جواب سادہ مگر خطرناک ہے: سیاسی فائدہ۔مودی اور بی جے پی جب بھی داخلی مسائل میں گھرے ہوتے ہیں، پاکستان مخالف بیانیہ تیز ہو جاتا ہےالیکشن قریب ہوں، مہنگائی بڑھے، کسان سڑکوں پر ہوں، یا اقلیتوں کے حقوق پر سوال اٹھیں — ہر موقع پر پاکستان ایک آسان ہدف بن جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف سخت بیانات قوم پرستی کو ہوا دیتے ہیں عوامی جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور مودی کو "مضبوط لیڈر" بنا کر پیش کرتے ہیں بھارتی فلم انڈسٹری اس بیانیے کو مزید طاقت دیتی ہے، کیونکہ فلمیں جذبات پر اثر ڈالتی ہیں، منطق پر نہیں۔ جب ایک فلم سپاہیوں، نعروں اور دشمن کی تصویر کشی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے تو ناظر سوال نہیں کرتا، صرف ردِعمل دیتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور سینما مل کر ایک خطرناک ذہنیت تخلیق کرتے ہیں، جس کا نقصان پورے خطے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
نفرت کا بیانیہ یا امن کا راستہ؟
مودی کی سیاست اور بھارتی فلم انڈسٹری کی سوچ کا یہ اشتراک وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں جنوبی ایشیا ایٹمی طاقتوں کا خطہ ہے، جہاں نفرت پر مبنی بیانیہ کسی بھی وقت سنگین تصادم میں بدل سکتا ہے۔ یہ نہ بھارت کے حق میں ہے اور نہ پاکستان کے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ سیاست اور فلم کو نفرت کے بجائے امن، سچ اور انسانیت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی سمجھنا چاہیے، کیونکہ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔


Comments
Post a Comment