سُپر فلوکیا ہے۔ بچاو کی ویکسین لگوانے سے انسان محفوظ ہو سکتا ہے

یوں تو سردی آتے ہی فلوآپکے اردگردگھومنا شروع کر دیتا ہے۔اگر احتیاط نہ کی جائے تویہ آپ کو لگ بھی سکتا ہے۔ سُپر فلوایک فلو کی ایک قسم ہے۔ برطانیہ میں رواں موسمِ سرما کے دوران نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ فلو کے کیسز میں معمول سے کہیں پہلے اور تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے بعض طبی ماہرین اور ذرائع ابلاغ نے ’سُپر فلو‘ کا نام دیا ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ کوئی باقاعدہ سائنسی نام نہیں، مگر اس سے مراد فلو کی وہ غیر معمولی لہر ہے جو اپنی شدت، پھیلاؤ اور اثرات کے باعث عام موسمی فلو سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔یہ کوئی نیا وائرس نہیں، بلکہ زیادہ تر وہی انفلوئنزا وائرس ہوتا ہے جو ہر سال گردش کرتا ہے، تاہم بعض عوامل اس کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں سُپر فلو جیسی صورتحال پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہیں کووِڈ-19 وبا کے دوران لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے اور ماسک کے استعمال کے باعث عام فلو اور دیگر وائرسز کا پھیلاؤ کم ہو گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کی قدرتی قوتِ مدافعت کو فلو سے لڑنے کا موقع کم ملا۔ اب جب معمولات زندگی بحال ہو چکے ہیں تو فلو تیزی سے پھیل رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سردی کا آغاز بعض اوقات اچانک اور شدید ہو جاتا ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بھی فلو کی ایسی شدید لہریں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ حکومت، صحت کے اداروں اور عوام کو مشترکہ طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ این ایچ ایس کو اس دباؤ سے نکالا جا سکے۔’سُپر فلو‘ اگرچہ کوئی باقاعدہ طبی اصطلاح نہیں، مگر یہ برطانیہ میں فلو کی اس شدید لہر کی درست عکاسی کرتی ہے جو این ایچ ایس کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ احتیاط، آگاہی اور بروقت علاج ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہیں۔ اگر عوام اور ادارے مل کر اقدامات کریں تو نہ صرف فلو کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔  

  سپر فلو جن افراد کو زیادہ ہو سکتا ہے۔حاملہ خواتین۔ بزرگ افراد ۔ بچے۔ دمہ کے مریض۔ دل کے مریض۔پھیپھڑوں کے مریض ۔ اورکمزور مدافعتی نظام رکھنے والے مریض کو ہوسکتا ہے۔سُپر فلو کی علامات عام فلو جیسی ہی ہوتی ہیں مگر شدت زیادہ ہو سکتی ہے۔تیز بخار۔شدید کھانسی۔جسم میں درد اور تھکن۔گلا خراب ہونا۔سر در۔سانس لینے میں دشواری۔بعض مریضوں کو کئی دن تک بستر سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اگرچہ سُپر فلو کی صورتحال تشویشناک ہے، مگر احتیاطی تدابیر اپنا کر اس سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔ فلو ویکسین لگوائیں یہ فلو کے خلاف سب سے مؤثر تحفظ ہے، خاص طور پر خطرے سے دوچار افراد کے لیے۔ہاتھ بار بار دھوئیں اور سینیٹائزر استعمال کریں۔بیمار ہونے کی صورت میں دفتر یا اسکول جانے سے گریز کریں۔بھیڑ والی جگہوں پر ماسک پہننا اب بھی مؤثر حفاظتی اقدام ہے۔مناسب نیند، متوازن غذا اور پانی کا استعمال قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔سُپر فلو برطانیہ میں فلو کی ایک شدید لہر ہے جو این ایچ ایس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر طلبہ اور عام لوگ احتیاط کریں تو بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکتا ہے اور صحت کے نظام پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔





Comments

Popular posts from this blog

گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت کا نیا دور

Terms and Conditions

Contact Us