نئے سال کی خوشیوں کے نام پر سائبر فراڈ کا طوفان


 مبارک باد کے جعلی پیغامات، قیمتی انعامات کا لالچ اور خفیہ ڈیٹا کی چوری

فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر بڑھتا سائبر دھوکہ

ایک کلک، ساری زندگی کی کمائی خطرے میں: سائبر فراڈ کے نئے طریقے بے نقاب

نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی وارننگ

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی جہاں دنیا بھر میں خوشی، امید اور نئی شروعات کا پیغام دیا جاتا ہے، وہیں سائبر مجرم اس موقع کو شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے سال کی مبارک باد کے نام پر جعلی لنکس، فرضی انعامات اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ایجنسی کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور خاص طور پر واٹس ایپ اس وقت سائبر فراڈ کرنے والوں کا سب سے بڑا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کو ایسے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں معروف موبائل کمپنیوں، بینکوں، آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان پیغامات میں صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ قرعہ اندازی میں کامیاب ہو چکے ہیں اور انہیں موبائل فون، لاکھوں روپے کی نقد رقم یا قیمتی گفٹ واؤچرز ملنے والے ہیں۔حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ تمام پیغامات دراصل ایک منظم سائبر فراڈ کا حصہ ہوتے ہیں جن کا مقصد صارفین کی ذاتی معلومات، بینک تفصیلات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔

 

جاننے والے کے اکاؤنٹ سے آنے والا پیغام بھی خطرناک

نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے خاص طور پر اس پہلو پر زور دیا ہے کہ اگر کوئی مشکوک لنک یا پیغام کسی جاننے والے دوست یا رشتہ دار کے اکاؤنٹ سے بھی موصول ہو تو اس پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہ کیا جائے۔ ادارے کے مطابق ہیکرز عموماً پہلے کسی ایک صارف کا اکاؤنٹ ہیک کرتے ہیں اور پھر اسی اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہوئے اس کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود دیگر افراد کو پیغامات بھیجتے ہیں۔چونکہ پیغام کسی شناسا شخص کے اکاؤنٹ سے آتا ہے، اس لیے لوگ شک نہیں کرتے اور لنک پر کلک کر دیتے ہیں، جس کے بعد ان کا اکاؤنٹ بھی ہیک ہو جاتا ہے یا ان کی قیمتی معلومات فراڈ کرنے والوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔

ایک کلک، بڑا نقصان

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے لنکس بظاہر بالکل اصلی ویب سائٹس جیسے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر بینک یا آن لائن سٹور کے لوگو، رنگ اور ڈیزائن تک اصلی ویب سائٹ سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ صارف جیسے ہی اس ویب سائٹ پر لاگ ان ہونے کی کوشش کرتا ہے یا اپنی معلومات درج کرتا ہے، وہ تمام ڈیٹا براہ راست ہیکرز کو منتقل ہو جاتا ہے۔

کن معلومات کو ہرگز شیئر نہ کریں؟

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایک سینئر افسر نے واضح کیا ہے کہ عوام کو کسی بھی صورت میں درج ذیل معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں:

واٹس ایپ یا کسی بھی ایپ کا ویری فکیشن کوڈ

ون ٹائم پاس ورڈ (OTP)

بینک اکاؤنٹ نمبر یا اے ٹی ایم کارڈ کی تفصیلات

شناختی کارڈ نمبر یا اس کی تصویر

ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے پاس ورڈز

 
افسر کے مطابق کوئی بھی ادارہ، بینک یا کمپنی فون کال، ایس ایم ایس یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی حساس معلومات طلب نہیں کرتی۔


فراڈ کے پیچھے منظم نیٹ ورک

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ سائبر فراڈ انفرادی نہیں بلکہ منظم گروہوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان گروہوں میں تکنیکی ماہرین شامل ہوتے ہیں جو جعلی ویب سائٹس بناتے ہیں، خودکار پیغامات تیار کرتے ہیں اور ہزاروں افراد کو بیک وقت نشانہ بناتے ہیں۔کچھ کیسز میں فراڈ کرنے والے صارفین کے بینک اکاؤنٹس خالی کر دیتے ہیں، جب کہ بعض صورتوں میں شناختی معلومات استعمال کر کے جعلی قرضے یا اکاؤنٹس بھی کھولے جاتے ہیں۔

شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے شہریوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:

  کسی بھی غیر تصدیق شدہ لنک پر کلک نہ کریں 

انعام یا تحفے کے دعووں پر فوراً یقین نہ کریں

دو مرحلہ جاتی تصدیق   

(Two-Factor Authentication)فعال رکھیں

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز مضبوط کریں

مشکوک پیغامات کو فوری طور پر رپورٹ کریں

آگاہی ہی سب سے بڑا ہتھیار

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار عوامی آگاہی ہے۔ جتنا زیادہ لوگ ان ہتھکنڈوں سے واقف ہوں گے، اتنا ہی فراڈ کرنے والوں کے لیے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔نئے سال کے موقع پر خوشی منانا ہر کسی کا حق ہے، مگر ایک لمحے کی غفلت زندگی بھر کا نقصان بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی وہی احتیاط برتی جائے جو ہم حقیقی زندگی میں کرتے ہیں۔ 

 

 

   

Comments

Popular posts from this blog

گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت کا نیا دور

Terms and Conditions

Contact Us