موبائل فون اور بچوں کی نشوونما
موبائل فون: جدید دور کی بہترین ایجاد یا خاموش دشمن؟
موبائل فون بلاشبہ موجودہ دور کی ایک عظیم ایجاد ہے جس نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ رابطہ، تعلیم، کاروبار، تفریح اور معلومات تک رسائی چند لمحوں میں ممکن ہو چکی ہے۔ لیکن جہاں اس ایجاد نے بڑوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں، وہیں یہ چھوٹے بچوں کے لیے ایک نیا اور خطرناک چیلنج بھی بن گئی ہے۔ خاص طور پر آج کی مائیں، جو بچوں کو خاموش رکھنے یا وقتی محبت کے اظہار کے لیے موبائل فون تھما دیتی ہیں، وہ جانے انجانے میں اپنے بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہیں۔ اکثر مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر بچہ رو رہا ہے، ضد کر رہا ہے یا تنگ کر رہا ہے تو موبائل فون دے دینا اس کی محبت کی علامت ہے۔ کارٹون، ویڈیوز اور گیمز بچے کو فوراً خاموش کر دیتے ہیں، لیکن یہ خاموشی وقتی ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ محبت نہیں بلکہ سہولت پسندی ہے، کیونکہ ماں وقتی سکون کے بدلے بچے کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہے۔
بچوں کی ابتدائی عمر اور دماغی نشوونما
بچے کی ابتدائی پانچ سال کی عمر اس کی دماغی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ اس دوران بچہ دیکھ کر، سن کر، چھو کر اور بات چیت کے ذریعے سیکھتا ہے۔ موبائل فون اس قدرتی عمل میں رکاوٹ بن جاتا ہے کیونکہ اسکرین پر نظر جمائے رکھنے والا بچہ نہ سوال کرتا ہے، نہ سوچتا ہے اور نہ ہی اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھ پاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ زیادہ موبائل استعمال کرنے والے بچوں میں توجہ کی کمی، یادداشت کی کمزوری اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ بچے فوری تفریح کے عادی ہو جاتے ہیں اور کتاب، کہانی یا تخلیقی سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا دماغ آہستہ آہستہ سست اور کاہل ہو جاتا ہے۔
آنکھوں پر موبائل فون کے خطرناک اثرات
چھوٹے بچوں کی آنکھیں نہایت نازک ہوتی ہیں۔ موبائل اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی آنکھوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے آنکھوں میں جلن، پانی آنا، نظر کی کمزوری اور مستقبل میں عینک لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ بچوں میں کم عمری میں ہی بینائی کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ موبائل فون کا بے جا استعمال ہے۔ موبائل فون اور بچوں کی نیند پر اثرات جو بچے سونے سے پہلے موبائل استعمال کرتے ہیں، ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ نیند کی کمی بچوں میں چڑچڑاپن، غصہ، ضد اور سستی پیدا کرتی ہے۔ نیند دماغ کی نشوونما کے لیے ضروری ہے، اور موبائل فون اس قدرتی عمل کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔بچوں کی سماجی صلاحیتوں کی تباہی موبائل فون میں گم بچے اپنے بہن بھائیوں، والدین اور دوستوں سے بات چیت کم کر دیتے ہیں۔ وہ تنہائی پسند ہو جاتے ہیں اور حقیقی زندگی کے جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر معاشرتی مسائل، اعتماد کی کمی اور تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ موبائل فون اور بچوں کا اخلاقی زوال انٹرنیٹ پر موجود مواد ہر عمر کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ والدین کی لاپرواہی بچوں کو ایسے ویڈیوز اور گیمز تک پہنچا دیتی ہے جو تشدد، بدتمیزی اور غلط اقدار کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کا اثر بچوں کے اخلاق اور کردار پر براہ راست پڑتا ہے۔ ماں باپ کی ذمہ داری اور کردار بچے کی تربیت میں والدین، خاص طور پر ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ماں کا پیار وقت دینے، بات کرنے، کہانی سنانے اور بچے کے ساتھ کھیلنے میں ہے، نہ کہ موبائل فون تھما دینے میں۔ اگر ماں خود موبائل سے دور رہے گی تو بچہ بھی اس کی نقل کرے گا۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ موبائل فون بالکل ہی بے کار ہے۔ مناسب وقت، نگرانی اور تعلیمی مواد کے ساتھ اس کا محدود استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کی حد مقرر کرنا والدین کی ذمہ داری ہے، نہ کہ بچے کی مرضی پر چھوڑ دینا۔
بچوں کے لیے موبائل فون کا متبادل
موبائل فون کے بجائے بچوں کو کھلونے، کتابیں، تصویری کہانیاں، جسمانی کھیل اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رکھنا چاہیے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف بچوں کی ذہنی صلاحیت بڑھاتی ہیں بلکہ جسمانی صحت اور خود اعتمادی کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ مستقبل کی نسل اور ہماری غفلت اگر ہم آج سہولت اور وقتی سکون کے لیے بچوں کو موبائل کے حوالے کرتے رہے تو آنے والی نسل کمزور، بے حس اور غیر تخلیقی ہو گی۔ یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اسلام بچوں کی اچھی تربیت پر زور دیتا ہے۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، انہیں محبت، اخلاق اور علم سکھانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ ایسی کوئی چیز جو بچے کے اخلاق یا صحت کو نقصان پہنچائے، اس سے بچانا فرض ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ موبائل فون دینا محبت نہیں بلکہ غفلت ہے۔ حقیقی محبت وہ ہے جو بچے کو وقت، توجہ، رہنمائی اور مثبت ماحول فراہم کرے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں موبائل فون کے استعمال پر سختی سے نظر رکھنی ہو گی۔




Comments
Post a Comment