بیٹی کی موت کا ذمہ دارکون ماں یا باپ

  بہاولپور کی خاموش گلی میں گونجتا سائرن اور ایک باپ کی ٹوٹتی دنیا
ماں کے ہاتھوں بیٹی کا گلا۔ سگریٹ، غصہ اور خوف کی کہانی
 

بہاولپور کی ایک تنگ اور خاموش گلی، جہاں دوپہر کے وقت عموماً دھوپ دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے، اُس دن ایک عجیب شور سے لرز اٹھی۔ دور سے 1122 کی ایمبولینس کا سائرن سنائی دیا، جو آہستہ آہستہ قریب آتا جا رہا تھا۔ سائرن کی آواز کے ساتھ ایک باپ کی چیخیں، ایک ماں کی خاموشی، اور بچوں کی سسکیاں فضا میں گھلتی جا رہی تھیں۔غلام رسول اپنی بیٹی بسمہ کو ہاتھوں میں اٹھائے گلی کے کونے سے نمودار ہوا۔ اس کی آنکھوں میں خوف، ہاتھوں میں لرزش اور دل میں ایک انجان سا ڈر تھا۔ بسمہ کا جسم ڈھیلا پڑ چکا تھا، جیسے جان کب کی پرواز کر چکی ہو مگر باپ کا دل ماننے کو تیار نہ تھا۔ میری بیٹی کو بچا لو۔ خدا کے لیے میری بیٹی کو بچا لو۔وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔1122 کے اہلکار آگے بڑھے، پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ بچی کو اس کے باپ کی گود سے لیا، اسٹریچر پر لٹایا اور غلام رسول کو بھی ایمبولینس میں بٹھا دیا۔ سائرن دوبارہ چیخ اٹھا اور ایمبولینس سڑکوں کو چیرتی ہوئی ہسپتال کی ایمرجنسی کی طرف روانہ ہو گئی۔ راستے بھر غلام رسول بسمہ کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہی بسمہ جو کل تک ہنستی کھیلتی تھی، جو اسکول جانے کے لیے صبح جلدی اٹھتی تھی، جو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی تھی۔بس ایک بار آنکھ کھول لے بیٹا… بس ایک بارایمرجنسی میں ہلچل مچ گئی۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے فوراً بچی کو اسٹریچر سے اتارا۔ غلام رسول کو باہر روک دیا گیا۔ دروازہ بند ہوا اور وقت جیسے وہیں رک گیا۔چند لمحے، جو صدیوں جیسے لگے، گزرنے کے بعد ایمرجنسی کا دروازہ دوبارہ کھلا۔ ڈاکٹر کے چہرے پر سنجیدگی تھی، آنکھوں میں افسوس۔معاف کیجیے گا۔ آپ کی بیٹی کو مرے ہوئے کافی گھنٹے گزر چکے ہیں۔”
غلام رسول کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم تو ابھی لائے ہیں۔ڈاکٹر نے آہستہ مگر واضح الفاظ میں کہابچی کو گلا دبا کر مارا گیا ہے۔ گردن پر نشانات ہیں۔ یہ پولیس کیس ہے۔یہ الفاظ کسی گولی کی طرح غلام رسول کے دل میں پیوست ہو گئے۔ کچھ ہی دیر میں پولیس ہسپتال پہنچ گئی۔ سوالات شروع ہوئے، بیانات قلم بند ہونے لگے۔ غلام رسول کی حالت غیر تھی، مگر ایک لمحے پر آ کر اس نے وہ فیصلہ کیا جس نے اس کہانی کو ایک نیا رخ دے دیا۔ اس نے اپنی ہی بیوی، نبیلہ، کے خلاف درخواست دے دی۔نبیلہ کو گرفتار کر لیا گیا۔غلام رسول نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی زندگی کی کہانی سنائی۔میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ منگل کا دن تھا، میں حسبِ معمول کام پر گیا۔ سب کچھ نارمل تھا۔ بچے کھیل رہے تھے، گھر میں کوئی جھگڑا نہیں تھا اس کی آواز بھرا گئی۔میرے چھ بچے ہیں۔ جو فوت ہو چکی ہے، اس کا نام بسمہ تھا۔ وہ دوسرے نمبر پر تھی۔ میری پہلی بیوی فوت ہو چکی ہے، اور نبیلہ میری دوسری بیوی ہے۔ ہماری شادی کو تقریباً دس سال ہو چکے ہیں۔”غلام رسول نے ایک تلخ سچ بھی بتایا جب میں نے نبیلہ سے شادی کی، وہ پہلے ہی حاملہ تھی۔ میں نے پھر بھی اسے قبول کیا۔ زندگی ٹھیک چل رہی تھی۔ ہماری چار اولادیں ہوئیں، اور پہلی بیوی سے دو بچے ہیں۔وقت گزرتا گیا، مگر نبیلہ کی عادتیں بدلتی گئیں۔وہ رات کو بستر سے اٹھ کر چلی جاتی تھی۔ ایک دن میں نے پیچھا کیا تو دیکھا وہ چھت پر بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی۔ میں نے منع کیا اس نے معافی مانگ لی۔ مگر یہ عادت چھوٹی نہیں، بڑی ہوتی گئی۔اگر سگریٹ نہ ملتی تو گھر میں قیامت آ جاتی۔ وہ بچوں پر غصہ کرتی، بات بات پر چیختی۔ بچے اس سے ڈرنے لگے تھے۔ وہ منحوس دن بھی آیا۔غلام رسول فیکٹری میں تھا۔ دوپہر کا کھانا کھا چکا تھا کہ پڑوسی کا فون آیا۔آپ کے گھر سے بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں۔وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر کی طرف دوڑا۔ محلے والے پہلے ہی جمع تھے۔ دروازہ کھولا تو بچے اس سے لپٹ گئے، اور زور زور سے رونے لگے۔ سامنے بسمہ بے حس و حرکت پڑی تھی۔میں نے اسے اٹھانے کی بہت کوشش کی، مگر وہ نہیں اٹھنبیلہ نے بس اتنا کہ سیڑھیوں سے گر گئی ہے مگر پھر سچ سامنے آ گیا۔تیسرے نمبر کے بیٹے ساحل نے، کانپتی ہوئی آواز میں، وہ بات بتائی جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔مما آپی سے سگریٹ لانے کو کہہ رہی تھیں۔ آپی نہیں جا رہی تھیں۔ تو مما نے آپی کا گلا دبا دیا۔ وہ بے ہوش ہو گئیں۔ پھر مما نے ہمیں ڈرایا کہ اگر پاپا کو بتایا تو ہمارا بھی گلا دبا دیں گی۔یہ الفاظ تھے، مگر خنجر بن کر سب کے دلوں میں اتر گئے۔یہ کہانی فرضی ناموں کے ساتھ ہے، مگر حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، یہ اس خاموش ظلم کی تصویر ہے جو دیواروں کے پیچھے پلتا ہے، جہاں خوف، نشہ، غصہ اور لاپرواہی مل کر معصوم جانیں نگل لیتے ہیں۔ بہاولپور کی وہ گلی آج بھی موجود ہے، مگر اس دن کے بعد وہاں کی خاموشی میں ایک چیخ دفن ہے—بسمہ کی چیخ، جو شاید کبھی سنائی نہ دے، مگر ضمیر رکھنے والوں کے دل میں ہمیشہ گونجتی رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

گوگل جیمنی مصنوعی ذہانت کا نیا دور

Terms and Conditions

Contact Us