پاکستان کی معیشت زوال سے استحکام تک
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، مگر اس کے باوجود اس کی معیشت کو مختلف ادوار میں شدید مشکلات اور بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، ناقص پالیسیاں بدعنوانی، دہشت گردی اور عالمی معاشی دباؤ نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو کمزور کیا۔ تاہم تاریخ کے کچھ ادوار ایسے بھی رہے جب ملک کو معاشی سہارا ملا اور ترقی کی راہیں ہموار ہوئیں۔ ان ادوار میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے معیشت کی بحالی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور عوامی فلاح کے لیے اہم اقدامات کیے۔ پاکستان کی معیشت زوال کی وجوہات پاکستان کی معیشت کے زوال کی کئی بنیادی وجوہات رہی ہیں سیاسی عدم استحکام بار بار حکومتوں کی تبدیلی مارشل لا اور جمہوری تسلسل کی کمی نے طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچایا۔توانائی کا بحران بجلی اور گیس کی شدید قلت نے صنعت زراعت اور برآمدات کو بری طرح متاثر کیا جس سے معاشی پہیہ سست پڑ گیا۔دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال 2000 کی دہائی میں دہشت گردی نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دیا اور کاروباری سرگرمیاں محدود ہو گئیں۔ بڑھتا ہوا قرضہ اور مالیاتی خسارہ بیرونی قرضوں میں اضافہ روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو متاثر کیا۔
مسلم لیگ ن کا اقتدار میں آنا ایک نیا موڑ
جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو ملک کو شدید معاشی بحران توانائی کی قلت اور کمزور انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ پارٹی قیادت نے معیشت کو بحال کرنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ توانائی بحران کا مسلم لیگ (ن) کے دور میں توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے بجلی کے نئے منصوبے جن میں نیلم جہلم قائداعظم سولر پارک اور ایل این جی پاور پلانٹس شامل ہیں گردشی قرضے میں کم صنعتی شعبے کو بجلی کی بہتر فراہمی ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئی بلکہ صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔ انفراسٹرکچر کی ترقی مسلم لیگ ن کی حکومت نے انفراسٹرکچر کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔موٹرویز اور ہائی ویز کا جال میٹرو بس اور اورنج لائن جیسے شہری منصوبے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بہتری ان منصوبوں نے روزگار کے مواقع پیدا کیے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا۔سی پیک معاشی ترقی کا سنگِ میل چین پاکستان اقتصادی راہداری CPEC مسلم لیگ (ن) کے دور کا ایک تاریخی منصوبہ تھا۔توانائی منصوبے سڑکوں اور ریلوے کی تعمیرصنعتی زونز کا قیام سی پیک نے پاکستان کو علاقائی تجارت کا مرکز بنانے کی بنیاد رکھی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔معاشی اشاریے اور بہتری مسلم لیگ ن کے دور میں کئی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی:شرحِ نمو میں اضافہ مہنگائی کی شرح میں کمی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ روپے کی قدر میں استحکام یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہوئی۔سماجی اور فلاحی اقدامات معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے پر بھی توجہ دی گئی صحت اور تعلیم کے منصوبے لیپ ٹاپ اسکیم اور تعلیمی وظائف نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ان اقدامات نے انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔کاروبار اور سرمایہ کاری کا فروغ مسلم لیگ ن نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کیں ٹیکس نظام میں آسانی نجی شعبے کی حوصلہ افزائی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری اعتماد بحال ہوا۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں بھی کچھ چیلنجز موجود رہے قرضوں پر انحصار برآمدات میں توقع کے مطابق اضافہ نہ ہوناآمدن اور اخراجات میں توازن کا مسئلہ تاہم مجموعی طور پر معاشی سمت کو مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے تک زوال کا شکار رہی مگر مسلم لیگ ن کے ادوار میں اسے سہارا ملا اور ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔ توانائی بحران کا حل انفراسٹرکچر کی تعمیر سی پیک جیسے منصوبے اور معاشی استحکام کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ درست پالیسیوں اور تسلسل کے ساتھ پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں بھی ایسی ہی سنجیدہ اور دور اندیش پالیسیاں اپنائی جائیں تو پاکستان کو ایک مضبوط اور خودمختار معاشی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔


Comments
Post a Comment